پاکستان کے لیے ایک اور بڑا اعزاز، جرمن یونیورسٹی کے لیے پاکستانی طالب علم نے تحقیقی تھری ڈی میشن بنالی
پاکستانی نوجوان سیّد منیب علی کا بڑا کارنامہ، سیارہ زحل کے چاند اینسیلاڈس پر زندگی کے حوالے سے اہمیت رکھنے والے مختلف کیمیائی تعاملات کو تھری ڈی ایی میشن کے ذریعے مختصراً پیش کیا گیا۔ تھری ڈی اینی میشن کو وژولائز کرنے سے لے کر بنانے تک کا تمام کام انہوں نے بغیر کسی مدد کے کیا۔
لاہور: تفصیلات کے مطابق پاکستانی نوجوان سیّد منیب علی نے جرمنی کی ’فرائی یونیورسٹی‘ میں پلینٹری سائنس کے ماہر، ڈاکٹر نوزیر خواجہ کے تعاون و اشتراک سے ایک تھری ڈی اینی میشن تیار کی ہے۔ اس مشین میں سیارہ زحل کے چاند اینسیلاڈس پر زندگی کے حوالے سے اہمیت رکھنے والے مختلف کیمیائی تعاملات مختصراً پیش کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے اینی میشن ہاؤسز موجود ہیں لیکن سنجیدہ نوعیت کی سائنسی مصوری اور سائنسی اینی میشنز تیار کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
سیّد منیب علی نے کہا ہے کہ اس بارے میں تمام ضروری متعلقہ سائنسی معلومات انہیں ڈاکٹر نوزیر خواجہ نے فراہم کی تھیں جبکہ انہیں استعمال کرتے ہوئے تھری ڈی اینی میشن کو وژولائز کرنے سے لے کر بنانے تک کا تمام کام انہوں نے بغیر کسی کی مدد کے، خود انجام دیا ہے۔ پاکستانی نژاد ڈاکٹر نوزیر خواجہ جرمنی کی فرائی یونیورسٹی میں علمِ سیارگان کے ماہر ہیں جن کی قیادت میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے 2018ء اور پھر 2019ء میں زحل کے چاند اینسیلاڈس پر ایک اہم نامیاتی سالمہ (آرگینک مالیکیول) دریافت کیا تھا جو زندگی کی وجود پذیری کے نقطہ نگاہ سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
مذکورہ ویڈیو میں یہی تمام تحقیقات ایک مختصر لیکن جامع اینی میشن کی شکل میں پیش کی گئی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ نظام شمسی کے اس چمک دار ترین چاند ’’اینسیلاڈس‘‘ کی موٹی برفیلی سطح کے نیچے، مرکز میں نامیاتی مادے کیسے وجود میں آتے ہیں اور پھر اس کھولتے ہوئے سمندر سے نکلتے ہی کس طرح ٹھنڈ سے جم جاتے ہیں۔ اینسیلاڈس پر زندگی سے متعلق اہم سالمات کا اوّلین امکان تب سامنے آیا جب سیارہ زحل کی سمت بھیجے گئے خلائی مشن کیسینی نے اینسیلاڈس کے جنوبی قطب کے قریب سے گزرتے ہوئے، وہاں سے خارج ہونے والے فواروں میں تیز رفتار گیسوں کے ساتھ ساتھ منجمد پانی بھی دریافت کیا تھا۔