پرندے کیوں نہیں آتے
زمانہ طالب علمی سے ایک تقریر اکثر و بیشتر سننے کو ملتی تھی جس کا عنوان ہوتا تھا "پرندے کیوں نہیں آتے، کنکر کیوں نہیں گراتے" اور مقرر کہتا تھا کہ پرندے کس کی مدد کو آئیں قاتل کی یا مقتول کی؟ قاتل کا بھی وہی نعرہ جو مقتول کا نعرہ۔ قاتل کا بھی وہی رب جو مقتول کا رب۔ قاتل کا بھی وہی دین جو مقتول کا دین۔ تو پرندے کس کی مدد کو آئیں۔ اُس وقت اِس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی بس مقرر کی شعلہ بیانی کو داد دے دیتے تھے لیکن اب یہ بات دل میں ایسے اُتر رہی ہے کہ شاہد کبھی بھی نہ نکل سکے۔
12 ربیع الاول 19 اکتوبر 2021ء ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں میں ایک عظیم الشان میلادالنبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا انعقاد کیا گیا جس میں ہر علاقے سے لوگ ریلیوں کی شکل میں پیارے آقاِ دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہوئے تشریف لا رہے تھے۔ بہت سی ریلیاں میلاد والی جگہ پر پہنچ چکی تھیں اور بہت سی ریلیاں جو راستے میں تھیں اُن میں سے ایک ریلی جو سینکڑوں بچوں، جوانوں اور بزرگوں پر مشتمل تھی جو اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے تشریف لا رہے تھے کہ پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں بہت سارے بچے جو اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت میں سفید رنگ کے امامے اور دستار پہنے ہوئے تھے شدید زخمی ہو گئے اور اُن کا وہ سفید لباس خون سے سرخ ہو گیا۔ جن کا جرم یہ تھا کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جو حاصل ہی اِسی لئے کیا گیا کہ مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دین اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جن کی خاطر یہ دنیا معرضِ وجود میں آئی) کی آمد کا دن خوشی کے ساتھ مناسکیں۔
لیکن افسوس کہ انہیں اپنے آقاِ دو جہاں (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا میلاد منانے کی وجہ سے اُن پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی۔ اور یہ بات ثابت ہو گئی کہ “قاتل کا بھی وہی دین جو مقتول کا دین اور قاتل کا بھی وہ نعرہ جو مقتول کا نعرہ”۔
زیادہ دور نہیں جاتے کل ہی کی بات ہے کہ لاہور سے تحریک لبیک پاکستان لانگ مارچ کا آغاز کرتی ہی اور ہزاروں کے حساب سے لوگ اُس میں شامل ہوتے ہیں اور پرُامن مارچ اپنی منزل کی طرف گامزن تھی کہ مقامی پولیس نے انھیں روکنے کے لیے سٹریٹ فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں کچھ لوگ شہید ہو گئے اور بہت سے لوگ زخمی ہو گئے۔ اس طرح پولیس اور مظاہریں میں پتھراؤں اور جھگڑا شروع ہو گیا، اور مزید اب کتنی جانیں جائیں گی اِس بات کا کوئی ادراک نہیں۔
پرندے کیوں آئیں گے، کنکر کیوں برسائیں گے جب پولیس جیسے وحشی درندے کھلے عام پھرتے ہوں اور مسلمان ہوکر بھی آخری نبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو ماننے والے نبوت پر ایمان رکھنے والے معصوم بچوں اور بزرگوں پر شیلنگ کریں اور مسلمان پر ہی اسلحہ تان کر فائر کریں اور اُسے موت کی نیند سلا دیں۔ اور جہاں اساتذہ کے نام پر دھبہ، سارنگ جیسے جنسی بھیڑئیے بچوں کا جنسی طور پر قتل عام کرتے ہوں۔ جہاں انصاف ٹکوں پر بکتا ہو۔ جہاں کسی مسلمان کی عزت و آبرو اپنے ہی مسلمان سے محفوظ نہ ہو تو وہاں پرندے نہیں آیا کرتے اور، کنکر نہیں برسایا کرتے۔