نیم کڑوا خزانہ
اللّہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کیا ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے کہ "پس (اے گروہِ جنّ و انسان) تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔"(سورۃ الرحمٰن#13) اللّہ تعالیٰ نے زمین کو نہ صرف ہمارے چلنے کے لیے بچھایا، بلکہ اس میں انواع و اقسام کے میوہ جات، اناج اور مختلف اشیاء کو پیدا کیا تاکہ ہم اپنی ضروریات ان سے پورا کریں اور اس انعام پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ نباتات کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے یہ شرف بخشا کہ وہ اللّہ پاک کی حمد و ثناء کے ساتھ اس کے آگے عاجزی کرتے ہیں، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور زمین پر پھیلنے والی بوٹیاں اور سب درخت (اسی کو) سجدہ کر رہے ہیں۔"(سورۃ الرحمٰن#6) اب اس آیت کی حقیقت سامنے رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو سمجھ آئے گی کہ اس قدر انعامات بنی نوع انسان کے لیے کیوں ہیں، اللّہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو اپنی معرفت پہچان کیلئے بنایا ہے۔ ان عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک کا نام نیم ہے۔ جس کے متعلق ہم بات کریں گے۔
نیم بکائن کی طرح ایک درخت جو گھنا سایہ رکھتا ہے، تاہم اس پر کرم بہت ہوتے ہیں۔ یہ درخت بکائن کی طرح محض سایہ کی خاطر ہر دلعزیز نہیں ہے، بلکہ اس کے فوائد اور بھی ہیں۔ نیم کا پھل بھی بکائن کی طرح ہوتا ہے جس کو نمکولی کہتے ہیں۔ جب یہ پکنے پر آتا ہے تو اس میں قدرے مٹھاس سی آجاتی ہے۔ اس لیے پرندے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ درخت، بڑ کی مانند چاروں طرف پھیلتا ہے۔ اس کا تنا بھی موٹا ہوتا ہے۔ جب یہ درخت پرانا ہو جاتا ہے تو اس میں سے ایک قسم کی رطوبت خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے جو نہایت شیریں ہوتی ہے۔ لوگ اس کو جمع کرکے بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اس کے پتے بھی طبی خواص رکھتے ہیں۔ اس کے جوشاندے میں نہانے سے خارش دور ہو جاتی ہے۔ زخموں پر بھی باندھے جاتے ہیں۔ یہ بہترین جراثیم کش درخت ہے اور جراثیم کشی میں استعمال ہوتا ہے۔ جوشاندہ معدے کو بھی درست کرتا اور خون کو صاف کرتا ہے۔ لیکن کڑوا ضرور ہوتا ہے۔ اس کی لکڑی بکائن سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر تختوں سے صندق بنا کر کپڑے رکھے جائیں تو ان کو کیڑا نہیں لگتا۔
نیم ایک سدا بہار قدیم درخت ہے جس کی عُمر دو سو سے پانچ سو سال تک ہوتی ہے، نیم کا درخت کم از کم 30سے 40 فٹ اونچا، گھنا اور سایہ دار ہوتا ہے، نیم کا درخت ماحول دوست ہے، نیم کے درخت کو انسان دوست درخت بھی کہا جاتا ہے، یہ ماحولیاتی آلودگی دُور کرتا ہے، کہا جاتا ہے کہ جس گھر میں نیم کا درخت ہو وہاں کے مکین وبائی امراض سے خاصی حد تک محفوظ رہتے ہیں، اس کے پتے، پھول، پھل اور چھال ہر ایک کی الگ الگ افادیت ہے۔ مثلاً نیم کے پتے پانی میں اُبال کر نہانے سے جِلدی امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ نیم کے تیل سے بالوں کی جڑوں میں مساج کرنے سر سے جوؤں اور لیکھوں کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے، اگر بال بہت زیادہ جھڑ رہے ہوں تو شیمپو کرنے کے بعد آخر میں نیم کے اُبلے ہوئے ٹھنڈے پانی سے بال دھولیں، نیم کا پانی بھی بالوں کی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ بال لمبے اور گھنے کرنے کے لیے نیم کے تیل میں تھوڑا سا زیتون کا تیل مِکس کرکے بالوں میں لگانے سے بال تیزی سے گھنے اور لمبے ہوتے ہیں، بالوں کی رونق بحال ہوتی ہے اور روکھا پن ختم ہو جاتا ہے۔
چہرے کے نکھار کے لیے نیم کے تیل کے ایک سے دو قطرے ہتھیلی میں لیں اور دو سے تین قطرے پانی کے بھی شامل کر کے اس محلول سے چہرے کی مساج کریں، یہ عمل ہر ہفتے میں ایک دن ضرور دہرائیں، چہرے سے داغ، دھبے، جھائیاں اور کیل مہاسوں کی شکایت دور ہو جائے گی۔ حساس اور بلیک ہیڈز والی اسکن کے لیے نیم کا تیل بہترین علاج ہے، نیم کے تیل کے دو تین قطرے پانی میں حل کر کے بلیک ہیڈز پر لگائیں، روزانہ کے استعمال سے بلیک ہیڈز جھڑ جائیں گے اور دوبارہ نہیں ہوں گے۔اگر کسان زراعت کے ساتھ شجر کاری کو بھی فروغ دیں تو اپنے بجٹ کا کافی حصہ اس طرح سے کما سکتے ھیں۔ نیم کی مصنوعات کو ملک اور بیرون ممالک میں بھیج کر ہم اچھا خاصا زرمبادلہ اپنے خزانے میں جمع کر سکتے ہیں۔