وفاقی شرعی عدالت کا سود سے پاک بینکاری نظام قائم کرنے کا حکم

image

ملک میں رائج سودی نظام خلاف شرع قرار، 19 سال بعد سودی نظام کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ ، عدالت نے ملک کو 31 دسمبر 2027 تک ربا فری بنانے کا حکم دے دیا

اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج سودی نظام کو خلاف شرع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ربا اور سود سے متعلق قوانین شریعت سے متصادم ہیں۔ عدالت نے سود کے لئے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین اورشقوں کوغیرشرعی قراردیتے ہوئے حکومت کو سودی نظام کے مکمل خاتمے کیلئے 5 سال کی مہلت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی شرعی عدالت نے 19 سال بعد سودی نظام کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں سودی قوانین میں 31 دسمبر 2022 تک ترامیم کی ہدایت کرتے ہوئے ملک کو 31 دسمبر 2027 تک ربا فری بنانے کا حکم دے دیاہے۔

جسٹس سید محمد انورنے فیصلے میں کہا کہ بینکوں کا قرض کی رقم سے زیادہ وصول کرنا ربا کے زمرے میں آتا ہےجبکہ قرض کسی بھی مد میں لیا گیا ہو اس پر لاگو انٹرسٹ ربا کہلائے گا۔ بینکوں  کا ہر قسم کا انٹرسٹ ربا ہی کہلاتا ہے۔ ربا مکمل طور پراور ہر صورت میں غلط ہے۔

وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ چین بھی سی پیک کے لئے اسلامی بینکاری نظام کا خواہاں ہے۔ ربا سے پاک نظام زیادہ فائدہ مند ہوگا۔اسلامی بینکاری نظام رسک سے پاک اوراستحصال کے خلاف ہے۔سود سے پاک بینکاری دنیا بھرمیں ممکن ہے۔

عدالت نے حکومت کو معاشی نظام شریعت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قوانین میں فوری ترامیم کی ہدایت کرتے ہوئے ربا سے پاک بنکاری نظام قائم کرنے، اندرونی و بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف، ورلڈ بنک سمیت دیگر بین الاقوامی  اداروں سے لین دین سود سے پاک بنانے کے لیے پانچ سال کی مہلت دی ہے۔