عجیب و غریب کیڑا دریافت جس کے جبڑے کا بڑا حصہ سخت تانبے پر مشتمل

image

سمندر کی گہرائی میں ایک عجیب و غریب کیڑا ملا ہے جس کے جبڑے میں تانبے کی غیرمعمولی مقدار ہے اور اسے دیکھ کر ہم ازخود تشکیل پانے والے نئے مٹیریئل بناسکتے ہیں۔

اسلام آباد: سانتا باربرا کے پروفیسر ہربرٹ ویٹ اور ان کے ساتھیوں نے Glycera dibranchiate نامی کیڑا دریافت کیا ہے جو پانچ سال تک زندہ رہتا ہے۔ سمندر کی گہرائی میں ایک عجیب و غریب کیڑا ملا ہے جس کے جبڑے میں تانبے کی غیرمعمولی مقدار ہے اور اسے دیکھ کر ہم ازخود تشکیل پانے والے نئے مٹیریئل بناسکتے ہیں. اسے خونی کیڑا یا بلڈ ورم کہا جاتا ہے جو سمندری فرش کی گہرائی میں کئی میٹر گہرا گڑھا کھود کر اندر گھس جاتا ہے۔ اس کے جبڑے سے خاص زہر نکلتا ہے اور اب معلوم ہوا ہے کہ محض ایک سادہ پروٹین کی وجہ سے اس کے جبڑے میں تانبے کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو دس فیصد جبڑے کی تشکیل کرتی ہے۔

اس کے جبڑے کی لمبائی دو ملی میٹر ہے اور جس میں تانبے کی مقدار آخری دم تک موجود رہتی ہے۔ سائنسدانوں نے کے مطابق اس کے دانت کسی بھی دھات اور سرامک جیسی مضبوطی رکھتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک خاص پروٹین جبڑے کی پرت در پرت مرحلہ وار تشکیل کرتا ہے۔ پہلے یہ ماحول سے تانبے کے ایٹم جمع کرتا ہے اس کے بعد ایک مائع آمیزہ بناتا ہے ۔ اگلے مرحلے میں پروٹین اسے کثیف مائع کی صورت الگ کرتا ہے اور موجودہ امائنو ایسڈ سے اس تانبے کو جبڑے کا حصہ بنادیتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک خاص پروٹین جبڑے کی پرت در پرت مرحلہ وار تشکیل کرتا ہے۔ پہلے یہ ماحول سے تانبے کے ایٹم جمع کرتا ہے اس کے بعد ایک مائع آمیزہ بناتا ہے ۔ اگلے مرحلے میں پروٹین اسے کثیف مائع کی صورت الگ کرتا ہے اور موجودہ امائنو ایسڈ سے اس تانبے کو جبڑے کا حصہ بنادیتا ہے۔ دوسری جانب خود پروٹین کی ساخت سے بھی ماہرین حیران ہیں۔ پھر یہ عمل انگیز (کیٹے لسٹ) سے بھی بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین یہ عمل دیکھ کر بہت حیران ہوئے ہیں۔ لیکن اس پورے عمل کو سمجھ کر کمپوزٹ میٹریئل کی راہ ہموار ہوگی اور ہم بہتر مادے بناسکیں گے جو اپنی تشکیل آپ کرسکیں گے۔