پلاسٹک کے برتنوں میں پائے جانے والے زہریلے کیمیاء رحمِ مادر میں رسولیوں کے خطرات میں اضافے کا سبب

image
یہ رسولیاں نقصان دہ نہیں ہوتیں، ان غیر کینسر زدہ رسولیوں کی نمو ایک عام چیز ہے جو 10 میں سے 8 خواتین کو متاثر کرتی ہے، 25 فیصد کیسز میں یہ رسولیاں بڑھ جاتی ہیں اور بانجھ پن اور اسقاطِ حمل کے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
اِلینوائے: ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ لنچ بکس اور گھر کے دیگر پلاسٹک کے برتنوں میں پائے جانے والے زہریلے کیمیاء عورتوں میں رحم کی رسولیوں کا سبب بنتے ہیں۔ یہ رسولیاں کینسر کا سبب تو نہیں بنتیں البتہ عورتوں کیلئے تکلیف دہ ہوتی ہیں، ان کا ظاہر ہونا ایک عام چیز ہے جو 10 میں سے 8 خواتین کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ رسولیاں نقصان دہ نہیں ہوتی اور اکثر نظروں میں بھی نہیں آتیں لیکن 25 فی صد کیسز میں یہ رسولیاں بڑھ جاتی ہیں اور بانجھ پن اور اسقاطِ حمل کے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں جن کو ہٹانے کیلئے پھر پیچیدہ آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے 712 پری مینوپوزل خواتین اور ان پر ڈائی ایتھائیل ہیکسائل پتھلیٹ افشا ہونے کا معائنہ کیا۔ یہ کیمیکل پلاسٹک کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ محققین نے تحقیق میں  ڈائی ایتھائیل ہیکسائل پتھلیٹ کی اعلیٰ سطحوں اور بڑے فائبرائڈز (رحم میں بننے والی رسولی) کے بننے میں مضبوط تعلق پایا۔ ایک تجربے میں محققین نے بتایا کہ ڈائی ایتھائیل ہیکسائل پتھلیٹ  ایک عمل کو فعال کرتا ہے جو فائبرائڈ رسولیوں کی نمو میں تیزی لاتا ہے۔  
ڈائی ایتھائیل ہیکسائل پتھلیٹ کو تولیدی زہر قرار دیا جا چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ بانجھ پن کا سبب بن سکتا ہے، اس پر 2015ء میں یورپی قانون کے تحت پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن امریکا میں ابھی بھی یہ کئی اشیاء میں استعمال ہوتا ہے۔ ڈائی ایتھائیل ہیکسائل پتھلیٹ کے استعمال سے پلاسٹک کی لچک کم ہوتی ہے اور اس کو مضبوط بناتا ہے۔