رٹ
دی ویووز نیٹ ورک: آج ناچیز کو جس موضوع پر قلم کشائی کا موقع ملا وہ قانون کی اصطلاح میں رٹ کہلاتا ہے۔ ہر ملک کے اپنے اپنے قانون اور آئین ہوتے ہیں جس کی مدد سے وہ معاشرے کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے مختلف قانون اور زاویے متعرف کرتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے آئین کے مطابق ہر شخص کو بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں جن کا نفاذ ریاست کی زمہ داری ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل ٨ سے ٢٨ میں بنیادی حقوق کو بیان کیا گیا ہے اور ان میں سے کسی بھی حق کی حق تلفی کی صورت میں ہر شہری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے اور اپنے حقوق کی پامالی سے خود کو بچا سکتا ہے۔ اب اگر رٹ کی تعریف کریں تو وہ کچھ اس طرح سے ہو گی کہ وہ تحریری عدالتی حکم نامہ جو کسی عدالت مجاز بالخصوص ہائی کورٹ کی طرف سے انتظامیہ کے افسر یا متعلقہ شخص کے نام کسی کام کی انجام دہی کیلئے جاری کیا جائے۔
آئین میں دیئے گئے کسی بھی حقوق کی خلاف ورزی ہو اور کوئی ریمیڈی میسر نہ ہو تو ہر بندہ عدالت عالیہ یعنی ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر کے اپنے حقوق لے سکتا ہے۔ رٹ کی مزید تعریف کی جائے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی محکمے (عدالت کا حکم نامہ) کے فیصلے کے خلاف اس کے نفاذ کو روکنے کی عدالت عالیہ میں درخواست رٹ کہلاتی ہے۔ انگریزی قانون میں رٹ کی بڑی اہمیت ہے۔ شروع شروع میں یہ بادشاہ کلیسا یا چانسری کی طرف سے جاری ہوتی تھیں۔ مگر انیسویں صدی کے آغاز میں یہ اختیارات عدلیہ کے سپرد کر دیئے گئے۔ موجودہ دور میں کئی قسم کی رٹیں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ رٹ کی مختلف اقسام ہیں جس کے ذریعے ہر شہری اپنے غصب کئے گئے حقوق کو عدالت عالیہ کے زریعے واپس لے سکتا ہے لیکن میں انتہائی اہم رٹس کے حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا۔ میں اپنے اس آرٹیکل میں انتہائی مختصر کر کے اس کی اقسام کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔
1۔ رٹ آف ہیبیس کارپس، یہ رٹ کی سب سے پہلے قسم ہے، جس کا مقصد کسی شخص کو غیر آئینی بندی یا قید سے رہا کرانے کے سلسلے میں فوری مدد بہم پہنچانا ہوتا ہے۔ اس رٹ کی بنیاد انفرادی آزادی کے تحفظ پر مبنی ہے۔ اگر کسی شخص کو غیر قانونی طریقے سے نظر بند کیا جائے جو کہ اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو تو اس صورت میں ہر شہری عدالت عالیہ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کر سکتا ہے اور کسی بھی شخص کو جسے غیر قانونی طریقے سے قید یا نظر بند کیا گیا ہو اسے رہائی دلا سکتے ہیں۔ 2۔ رٹ آف سرشیاری، یہ رٹ کی دوسری قسم ہے جس میں عدالت عالیہ کی طرف سے فوجداری اور دیوانی چھوٹی عدالتوں کے نام جاری کی جاتی ہے۔ اس کے تحت عدالت عالیہ کی ماتحت عدالت سے کسی ایسے مقدمے کا تمام ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔ جو اس کے پاس فیصلہ کیلئے پڑا ہو۔ اس رٹ پٹیشن کے مطابق اگر ہائی کورٹ کی ماتحت عدالتوں میں کوئی کاروائی قانون کے مطابق نہ چل رہی ہو یا بہت التواء سے کام لیا جا رہا ہو تو کوئی بھی شہری عدالت عالیہ میں رٹ پٹیشن دائر کر سکتا ہے اور عدالت عالیہ اپنے ماتحت عدالتوں سے کوئی بھی ریکارڈ طلب کر کے فیصلہ سنا سکتی ہے۔
ایک قسم رٹ آف پروہبیشن ہے، یہ رٹ کی تیسری قسم ہےجس میں عدالت عالیہ کسی ماتحت عدالت کو کوئی ایسا فیصلہ کرنے سے روک سکتی ہے جو اس عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہو۔ اگر کوئی ماتحت عدالت کوئی ایسا فیصلہ کرتی ہے جس کو کرنے کا اختیار اس عدالت کے پاس نہیں تھا تو عدالت عالیہ ماتحت عدالت کو کوئی بھی ایسا فیصلہ کرنے سے روک سکتی ہے۔ رٹ آف مینڈامس، رٹ پٹیشن کی چوتھی قسم ہے، جس میں عدالت کسی شخص افسر کارپوریشن یا ماتحت عدالت کو کسی خاص فرض کے سر انجام دینے کا حکم دے سکتی ہے۔ یا مذکورہ افراد یا حکام کو کسی خاص کام کے کرنے سے منع کر سکتی ہے۔ نمبر 5۔ رٹ آف کووارنٹو، اس رٹ پٹیشن کی رو سے عدالت عالیہ کسی شخص سے جو کسی عہدے پر فائز ہو یہ پوچھ سکتی ہے کہ وہ کس حق کے تحت اس عہدے پر فائز رہنے کا حق دار ہے۔ اس میں اپنا حق ثابت کرنے کی ذمہ داری مدعا علیہ پر ہوتی ہے۔ کسی عہدے کے تحت حاصل ہونے والے اختیارات کے ناجائز اور غلط استعمال کو بھی اسی رٹ کے تحت چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
لہٰذا ہر شخص جس کے بنیادی حقوق میں سے جس کی بھی خلاف ورزی ہو جیسا کہ زندگی کا حق، آزاد گھومنے پھرنے کا حق، اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق، آزادئ اظہار رائے، جلسہ جلوس کرنے کی آزادی وغیرہ میں سے کسی بھی قسم کے حقوق کی فراہمی ریاست اور انتظامیہ کی زمہ داری ہے۔ آئین کے آرٹیکل ٨ سے ٢٨ میں جتنے بھی حقوق ہیں ہر شہری کو فراہم کرنا حکومت کی زمہ داری ہے اور اگر ان میں کوئی رکاوٹ ڈالی جائے تو ہر شہری عدالت عالیہ میں رٹ پٹیشن دائر کر سکتا ہے اور اپنے حقوق کی بحالی کیلئے آواز اٹھا سکتا ہے۔ ہر شخص کی یہ زمہ داری ہے کہ اس کو اپنے بنیادی حقوق کا علم ہونا چاہئے اور اسے اپنے حق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھانی چاہیے اور اگر حق لینے کیلئے قربانی بھی دینا پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں حق بات کرنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک کو تا قیامت شاد و آباد رکھے۔ آمین