امیر اور غریب کے لیے قانون کا فرق

image

آج جس موضوع پر ناچیز کو لکھنے کا موقع ملا ہے وہ ارد گرد کے واقعات پر نظر دوڑانے کے بعد ذہن میں آیا۔ قانون کسی بھی قوم کو مستحکم کرنے اور عوام کے درمیان ایک ایسی کڑی ہے جس کی وجہ سے ظالم کو اس کے ظلم کے بدلے میں سزا اور مظلوم کو انصاف فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہم باہر کے ممالک پر ایک نظر دوڑایں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز ان قوموں کی ترقی کا باعث ہے اور افرا تفری سے عوام کو باہر نکال کر ایک ساتھ کھڑا کر رکھا ہے وہ ان کا قانون ہے۔ اس کے برعکس اگر میں اپنے پیارے وطن میں دیکھوں تو ہمارا ملک جس بے سکونی اور بی چینی سے دوچار ہے اس کی دوسری وجوہات کے ساتھ ساتھ جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ امیر اور غریب کے لیے قانون میں فرق ہے۔

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کے سامنے تو قانون کو سب کے لیے برابر دکھایا جاتا ہے لیکن جب عملی طور پر بات کی جائے تو پاکستان کا قانون صرف اور صرف غریب افراد کے لیے ہے۔ میرے ملک کا عام شہری اگر چھوٹے سے چھوٹا جرم بھی کر لے تو اس پر پورے کا پورا قانون حرکت میں آجاتا ہے، اس کے برعکس جب امیر آدمی کوئی جرم کر بیٹھے تو وہ آرام و سکون سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے قانون کی گرفت سے نکل جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میری نظر سے ایک کیس گزرا جس کا وقعہ کچھ اس طرح سے تھا کہ بھوک کی وجہ سے چوری کرنے پر کسی خاتون کو قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بر عکس اگر ہم دیکھیں تو ہمارے جو بڑے بڑے سیاستدان کرپشن کی انتہا کر کے ہمارا ملک کھا گئے وہ اثر و رسوخ استعمال کر کے قانون کی گرفت سے دور اپنی زندگی گزار رہے ہیں، نہ تو ان پر کوئی ہاتھ ڈالتا ہے اور نہ انھیں کوئی قید کرتا ہے۔ ہمارے ملک میں انصاف کا یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟

نظام قانون پہ لکھتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ جو ظلم و جبر میرے ملک کے غریب پر کوئی معمولی سا جرم بھی کرنے پر ڈھایا جاتا ہے وہ امیروں پر غیر معمولی جرم کر کے بھی کیوں نہیں ڈھایا جاتا۔ اس بات پر میرے ملک کی عوام کو بھی بھرپور آواز اٹھانی چاہیے۔ مجھے ایک شعر یاد آ گیا جو کچھ اس طرح سے ہے کہ 

خواب سے جاگو ذرا آنکھ تو کھولو لوگو

زبانوں پہ ہیں جو تالے انھیں توڑو لوگو

منصفی چاہو تو کانپ اٹھے عدالت ساری

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹا دو لوگو 

اسی طرح صوبہ سندھ میں ایک واقعہ پیش آیا کہ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی کو ایک مقامی وڈیرے نے سر بازار اندھا دھند فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ معمول کے مطابق وڈیرا باعزت بری ہوا اور عدالت سے باہر آتے ہی اس نے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے پاکستان کے قانون پر کئی سوالات اٹھا دیے۔ میڈیا پر شور شرابہ ہونے کے بعد دوبارہ اس کا نوٹس لیا گیا۔ اسی جگہ میری طرح کا کوئی عام پاکستانی شہری ہوتا تو تمام قوانین اس پر حرکت میں آجاتے۔ آج المیہ یہ ہے کہ غریب ملزم کو جیل سے اس کے والدین کی موت پر بھی نہیں جانے دیا جاتا جبکہ غریب علاج اور طرح طرح کے حیلے بہانے بنا کر قانون کی گرفت سے بھاگ جاتے ہیں۔

لہذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دوہرے معیار کو ختم کر کے قانون کے نظام میں یکسوئی لائی جائے اور قانون کو ہر ایک کے لیے برابر رکھا جائے۔ غریب اور امیر کے اس امتیازی سلوک کو ختم کیا جائے اور قانون کو قرآن و سنت کے تقاضوں کو پورا کر کے بنایا جائے۔