فلسطین میں جنگ بندی کے بعد عالمی امداد پہنچنے لگی
اقوامِ متحدہ کے سینٹرل ایمرجنسی رسپانس فنڈ کی جانب سے انسانی بنیادوں پر ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالر کے ہنگامی فنڈز جاری، ملبے تلے شہداء کی تلاش کے کے نقصان اور تباہی کا اندازہ لگانے کے بعد فلسطینیوں کا اپنے پیاروں کی تدفین کا سلسلہ شروع، امدادی کارکن معمولی وسائل کے باوجود پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں۔
غزہ: تفصیلات کے مطابق ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں جس کے بعد عالمی برادری کی توجہ غزہ کی پٹی کی تعمیرنو کی طرف مرکوز ہو گئی ہے جو حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں بدترین تباہی سے دوچار ہوئی ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلیوں سے کہا ہے کہ وہ یروشلم میں فرقہ وارانہ لڑائی ختم کریں، اور غزہ کی تعمیرنو کے سلسلے میں منظم کوششیں کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ انہوں زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ابھی بھی دو ریاستی حل کی ضرورت ہے۔ امدادی سامان لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے اسرائیل کی جانب سے دوبارہ کھولے جانے کے بعد کرم شالوم کراسنگ کے راستے غزہ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس سامان میں ضروری ادویات کے ساتھ خوراک اور ایندھن کا سامان بھی شامل ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سینٹرل ایمرجنسی رسپانس فنڈ نے انسانی بنیادوں پر ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالر کے ہنگامی فنڈ جاری کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ جمعہ کے روز ہزاروں باشندے کئی دن گھروں اور پناہ گاہوں میں بند رہنے کے بعد باہر نکلے اور ملبے تلے شہداء کی تلاش کے کے نقصان اور تباہی کا اندازہ لگانے کے بعد فلسطینیوں کا اپنے پیاروں کی تدفین کا سلسلہ شروع کر دیا۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ وہ معمولی وسائل کے باوجود پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں تاکہ ملبے تلے دبے ہوئے زندہ افراد تک پہنچا جا سکے اور ان کی قیمتی جانوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔