گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید گرمی ایک تہائی اموات کی وجہ قرار
موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق جدید تحقیقات سے بڑا انکشاف، گزشتہ تین دہائیوں میں ہونے والی اموات میں سے 37 فیصد اموات موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
لندن: ماہرین نے گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید گرمی کو ایک تہائی اموات کی وجہ قرار دے دیا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں ہونے والی اموات میں سے 37 فیصد اموات کی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں کو بتایا گیا ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی ایک طویل عرصے سے ہیٹ ویوز کا زریعہ بن رہی ہے جس سے کئی اموات واقع ہو رہی ہیں۔
لندن سکول آف ہائیجن اور ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر اینتو جیسپرانی اور انکے ساتھیوں نے ایک تحقیق کی ہے جس کے مطابق آب و ہوا میں تبدیلی ( کلائمنٹ چینج) کے اثرات اب محض مستقبل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے سامنے ہے۔ اور ہم اسکے مضر اثرات آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وسطی اور جنوبی افریقی ممالک مثلاً گوئٹے، مالا اور کولمبیا مشرق وسطیٰ اور ایران میں 50 فیصد فلپائین اور جنوب مشرقی ایشیا میں گرمی کی شدت کی شرح بہت زیادہ دیکھی گئی ہے۔
لندن میں ہونے والی تحقیق میں 732 مقامات پر گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ اموات کا خطرہ دیکھا گیا ہے۔ مثلاً اگر جوہانس میں گرمی بڑھتی ہے تو عین اسی وقت درجہ حرارت سے جولن میں زیادہ اور جوہانس برگ میں کم اموات ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 1991 سے 2018 کے درمیان 43 ممالک کا جائزہ لیا۔ اسکے لئے ایک کمپیوٹر کا ماڈل خصوصی طور پر تشکیل دیا گیا جس میں عالمی حدت میں 1.1 درجے سینٹی گریڈ کے اضافے کو شامل نہیں کیا گیا جو دوسرے ماڈلوں میں تجویز کیا گیا تھا۔ اس فرق کو دیکھتے ہوئے گرمی بڑھنے کے واقعات کا حقیقی جائزہ لیا گیا۔
اس تحقیق سے وابستہ ایک ماہر اور ریڈنگ یونیوسٹی کی پروفیسر کلوائی برمیکومب کہتی ہیں کہ اگر ماضی میں گرین ہاؤسز گیسوں کا اخراج روکا جاتا تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی۔ ہماری تحقیق بتا رہی ہے کہ ہر سال 9702 افراد موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھنے والی گرمی سے مر رہے ہیں اگر پہلے اقدامات کیے جاتے تو شائد ان کی تعداد کم ہوتی۔ واضح رہے اس ضمن میں پاکستان نے کوششیں کی ہیں جن کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ اس سال موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی تقریب کی سربراہی بھی پاکستان کرے گا۔